10 جون 2014 - 15:07
صدر حسن روحاني اور ترکي کے صدر عبداللہ گل کي مشترکہ پريس کانفرنس

تہران اور انقرہ کے تعلقات ميں نئے دور کا آغاز / ايران اور ترکي کے درميان تجارتي لين دين کي حجم کو تيس ارب ڈالر تک پہنچانا چاہتے ہيں.

ابنا: صدر مملکت جناب حسن روحاني نے آج پير کو ترکي کے ہم منصب عبداللہ گل کے ساتھ انقرہ ميں مشترکہ کانفرنس کے دوران اس بات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ايران اور ترکي کے حکام اکثر علاقائي اور بين الاقوامي مسائل ميں ايک جيسي نظر رکھتے ہيں، کہا کہ ان کا اعليٰ سطحي وفد کے ہمراہ حاليہ دورہ ترکي دونوں ملکوں کے تعلقات ميں سنگ ميل کي حيثيت رکھتا ہے۔
خبر کا کوڈ: 78397 - پیر 09 June 2014 - 16:11 صدر مملکت نے کہا کہ ايران کے ہمسايہ ملکوں کے درميان ترکي کو خاص اہميت حاصل ہے اور وہ ايران اور ترکي کے درميان تجارتي لين دين کي حجم کو تيس ارب ڈالر تک پہنچانا چاہتے ہيں۔
صدر حسن روحاني نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ايران اور ترکي کو شام ميں جاري خانہ جنگي پر گہري تشويش ہے مزيد کہا کہ ايران اور ترکي خطے ميں امن و امان کے خواہاں ہيں-
انہوں نے اس عزم کا اظہا ر کيا کہ تہران اور انقرہ کے تعلقات ميں نئے باب کا آغاز ہو گا۔
اس موقع پر پريس کانفرس سے خطاب کے دوران ترکي کے صدر عبداللہ گل نے کہا کہ ايران اور ترکي کے تعلقات ميں توسيع خطے کي امن و سلامتي ميں بہت زيادہ موثر ہے۔
عبداللہ گل نے کہا کہ صدر حسن روحاني کے ساتھ انتہائي مفيد اور مذکرات مذاکرات انجام ہوئے ہيں-انہوں نے کہا کہ اقتصادي اور تجارتي ميدانوں ميں باہمي روابط کو فروغ دينے کے لئے دونوں ملکوں کےپاس بےشمار مواقع پائے جاتے ہيں جن سے فائدہ اٹھانے کي ضرورت ہے۔
انہوں نے صدر حسن روحاني کي خارجہ پاليسيوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر حسن روحاني کي خارجہ پاليسيوں سے نہ صرف ايران بلکہ پورے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہيں اور ايران بڑي تيزي سے ترقي کي منزل کي جانب رواں دواں ہے۔
انہوں نے آخر ميں کہا کہ پرامن مقاصد کے لئے ايٹمي ٹيکنالوجي کا حصول ايران سميت تمام خود مختار ممالک کا قانوني حق ہے اور ترکي بين الاقوامي سطح پر اسکي حمايت جاري رکھے گي۔

.......

/169